encyclopedia

شرک سے الحاد تک: مذہبی بیزاری کا تقابلی مطالعہ

Published on: 14-Mar-2026

تاریخی مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ مشرکانہ مذاہب اپنے اندر ہمیشہ ایسے فکری تضادات رکھتے ہیں جن کی وجہ سے شکوک، فطریّت اور صریح الحاد کی راہیں ہموار ہوجاتی ہیں۔ شواہد اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دیوتاؤں کی کثرت سے پیدا ہونے والے عقلی تضادات، دیوتاؤں کی انسانی صفات پر مبنی تصویر کشی سے جنم لینے والی طنزیہ اور اخلاقی تنقید، مختلف مذہبی رسومات کی کثرت سے ابھرنے والی نامعقول روایت پرستی اور مایوسی کے نتیجے میں فطری و عقلی توضیحات کی طرف رجحان نے اجتماعی طور پر شرک کی فکری بنیادوں کو کمزور کیا۔ یونانی، روم، برصغیر اور چین کی مذہبی مثالیں یہ دکھاتی ہیں کہ اعلیٰ فکری حلقوں میں خدائی تصورات بتدریج نئی تعبیرات اختیار کرتے گئے یا پس منظر میں چلے گئے، جبکہ عوامی سطح پر مشرکانہ مذاہب اپنی روایتی صورت میں قائم رہے اور بعد ازاں یورپ میں نشاۃِ ثانیہ اور خصوصاً عہدِ تنویر نے قدیم شکوک کو ایک منظم اور زیرِ بحث فکری رجحان میں تبدیل کر دیا۔ اسلامی زاویۂ نگاہ سے مشرکانہ مذاہب کا زوال ایک فکری اور اخلاقی تبدیلی کی صورت رکھتا ہے جو بالآخر توحید میں ہی اپنی کامل ہم آہنگی پاتا ہے جہاں اسلام کو محض الحاد کے ردِعمل کے طور پر نہیں بلکہ اس سے ماورا ایک جامع مابعد الطبیعاتی اور اخلاقی نظام کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو فکری وحدت اور معنوی استحکام فراہم کرتا ہے جبکہ الحاد کا ظہور اس وقت ہوتا ہے جب غیر الہامی، تبدیل شدہ یا مشرکانہ مذاہب انسانوں کے حتمی سوالات کے جوابات دینے سے معذور پائے جاتے ہیں۔

شرک کی تعریف

شرک ایک ایسا مذہبی تصور ہے جو تین باہم مربوط عناصر پر مبنی ہے:

  1. فطری مظاہر کی الوہیت (Deification of Nature) : یعنی آسمان، زمین، سورج، چاند، سمندر، پودے، جانور، بلکہ بعض اوقات آباؤ اجداد، بادشاہوں اور ہیروز کو بھی خدائی صفات دے کر دیوی و دیوتا بنا دیا جاتا ہے۔ 1
  2. اساطیر (Myth) : یعنی ان فطری قوتوں کو دیوتاؤں اور دیویوں کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے جن کے ذاتی نام، کہانیاں اور سوانح عمریاں ہوتی ہیں۔ اس ضمن میں اساطیر کائنات کو معنی فراہم کرتی ہیں اور مذہبی رسوم و عبادات کو ایک فکری ہم آہنگی دیتی ہیں۔
  3. مادی اشیاء کی الوہیت (Deification of Objects): یعنی وہ قدرتی اشیاء ہوں جیسے پتھر اور درخت، یا انسان کے بنائے ہوئے بت اور مجسمے، ان اشیاء کو خدائی موجودگی کی علامت یا مظہر سمجھا جاتا ہے۔ یہی تصور اکثر بت پرستی کی صورت اختیار کر لیتا ہے، اور بعض اوقات یہ فیتشزم (Fetishism) 2 تک جا پہنچتا ہے، اگرچہ فیتشزم ہمیشہ مبنی بر شرک نہیں ہوتا۔ 3

ان تین عناصر کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو شرک ایک ایسا ہمہ گیر نظام بن جاتا ہے جو فطرت، اساطیر اور مادی اشیاء کو عقیدے اور عبادت کے ایک مربوط ڈھانچے میں جوڑ دیتا ہے۔

شرک بنیادی طور پر کئی خداؤں پر ایمان رکھنے کا نام ہے جو عموماً ایک دیوتائی نظام (Pantheon) میں منظم ہوتے ہیں۔ ایسے نظام میں کوئی ایک خدا مطلق اقتدار کا حامل نہیں ہوتا بلکہ مختلف دیوی دیوتا زندگی یا کائنات کے مختلف پہلوؤں کے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں۔ ہر خدا ایک منفرد ہستی ہوتا ہے جس کا اپنا نام، اپنی کہانی اور اپنا دائرۂ اختیار ہوتا ہے۔ 4 فکری اور مذہبی تاریخ میں شرک کے بارے میں آرا ء بدلتی رہی ہیں۔ عیسائیت اور اسلام نے اسے روایتی طور پر بت پرستی یا گمراہی قرار دیا، لیکن یورپ میں نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) سے لے کر رومانویت (Romanticism) تک بعض مفکرین نے اس کا ازسرِنو مثبت جائزہ لیا۔مثلا گوئتھ(Goethe) جواٹھارویں صدی کا بڑا مصنف تھا، کہتا تھا کہ وہ فن میں مشرک، سائنس میں وحدت الوجودی (Pantheist) اور اخلاق میں عیسائی ہے۔ جرمن فلسفے میں"تخیل اور فن کا شرک" کو بعض اوقات توحید کی فکری سختی کے مقابل ایک متوازن نظریہ سمجھا گیا ہے۔ عصرِ حاضر میں بعض محققین شرک کی لچک اور تکثیریت (Pluralism) کو نمایاں کرتے ہیں، جہاں دیوتاؤں کے درمیان ایک طرح کی "تقسیمِ کار" پائی جاتی ہے، اور نئے دیوتاؤں کو نظام میں بغیر کسی مطلق انحصار یا انکار کے شامل کرنا آسان ہوتا ہے۔ اسی رجحان نے جدید مغربی فکر میں"نیا شرک" (New Polytheism) کو جنم دیا، جس میں اساطیر اور کثرت کو تخلیقی صلاحیت، فکری تنوع اور ماحولیاتی شعور کے وسائل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ 5 تاہم، ان جدید تعبیرات کے باوجود، تاریخی طور پر شرک نے معاشرتی اور اخلاقی مسائل کو جنم دیا۔ خدائی اقتدار کو متعدد دیوتاؤں میں تقسیم کرنے سے اکثر باہمی کشمکش، فکری انتشار اور سماجی عدم استحکام پیدا ہوا۔ اساطیر اور بت پرستی پر انحصار نے توہم پرستی کو فروغ دیا، پجاری طبقات کے استحصال کو جواز بخشا اور بعض اوقات ظالمانہ سماجی ڈھانچوں کو تقدس عطا کیا۔ یوں شرک کوئی دلکش یا مثالی نظام نہیں بلکہ ایک منتشر عالمی تصور ثابت ہوا جو وہ وحدت، عدل اور اخلاقی وضاحت فراہم نہ کر سکا جو توحید میں پائی جاتی ہے۔

شرک کی اقسام

شرک مختلف تہذیبوں میں غیر معمولی تنوع کے ساتھ پایا گیا ہے اوریہ تنوع اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مختلف معاشروں نے خدائی قوت اور کائناتی نظم کو کس طرح تصور کیا۔ شرک کی چار بڑی اقسام ہیں:

  1. مظاہر پرستی(Naturalistic)
  2. اساطیری یا اینتھروپومورفک (Mythological/Anthropomorphic)
  3. فعلی یا وظیفاتی (Functional)
  4. فلسفیانہ (Philosophical)

ان اقسام کے ذریعے شرک کے عالمی تصور کی اندرونی ہم آہنگی اور اس میں پائے جانے والے فطری تناؤ دونوں کو واضح کیا جاتا ہے۔ یہ تنوع اس امر کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ خدائی تصور میں کثرت نے کس طرح فکری غور و فکر، تنقید، اور بالآخر توحیدی یا شکی (skeptical) تعبیرات کی طرف رجحان کو جنم دیا۔

مظاہر پرستی (Naturalistic Polytheism)

ابتدائی مذاہب کی ایک بڑی تعداد میں دیوتا فطری قوتوں یا مظاہر کی مجسم صورت ہوتے تھے۔مثال کے طور پر قدیم یونان میں ہیلیوس (Helios)سورج کا دیوتا تھا، پوسائیڈن (Poseidon)سمندر پر حکمرانی کرتا تھا، اور گیا (Gaia) زمین کی نمائندہ سمجھی جاتی تھی۔ 6 اسی طرح ویدی ہندوستان میں اگنی (آگ)، وایو (ہوا) وغیرہ کو خدائی حیثیت حاصل تھی۔ 7 اس تصور کے تحت الوہیت فطرت کے اندر دیکھی جاتی تھی یعنی کہ ہر دریا، پہاڑ یا طوفان کا اپنا دیوتا ہو سکتا تھا، اور یوں پوری فطرت ایک مقدس اور خدائی نظام میں تبدیل ہو جاتی تھی۔

اساطیری (Mythological)یا اینتھروپومورفزم (Anthropomorphism)

اینتھروپومورفزم(Anthropomorphism) 8اگرچہ ابتداء میں مذہبی نظریات کی بقا کے لیے مفید تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ مذہبی تخیل کا حصہ بن گیا، جہاں دیوتاؤں کو انسانی صفات کے ساتھ پیش کیا جانے لگا۔ 9ایسے دیوتاؤں کی ذاتی کہانیاں ہوتی تھیں جو محبت، حسد، جھگڑوں اور انتقام جیسے ڈرامائی عناصر سے بھرپور تھیں۔ یونانی اور رومی دیوتائی نظام اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ جیسے کہ زیوس/ جیوپیٹر (Zeus/Jupiter) دیوتاؤں کا بادشاہ تھا، جس کا مزاج سخت تھا اوراس کے عشق و محبت کے قصے مشہور تھے؛ اس کی بیوی ہیرا/ جونو (Hera/Juno) حسد اور انتقام کی علامت سمجھی جاتی تھی، وغیرہ۔ 10 اگرچہ یہ دیوتا مافوق الفطرت طاقتوں کے حامل سمجھے جاتے تھے، لیکن ان کا کردار اکثر انسانی کمزوریوں کا عکاس ہوتا تھا۔ مزید برآں، اساطیری شرک میں دیوتاؤں سے متعلق دیو مالائی کہانیاں عبادت اور ثقافتی شناخت کا مرکزی جزو بن جاتی تھیں، جو معاشرے کے اجتماعی شعور کو تشکیل دیتی تھیں۔

فعلی شرک (Functional Polytheism)

تاریخ میں بہت سی مشرکانہ تہذیبوں میں ہر معبود کا ایک مخصوص کام، دائرۂ اختیار یا سرپرستی ہوتی تھی، اور لوگ اپنی ضرورت کے مطابق اسی دیوتا سے دعا اور نذر و نیاز کرتے تھے۔ جنگ کے الگ دیوتا ہوتے، زرخیزی اور اولاد کی الگ دیویاں، فصل اور کھیتی باڑی کے الگ معبود، شفا کے، تجارت کے، فنونِ لطیفہ کے اور دیگر شعبوں کے جدا جدا خدائی تصورات پائے جاتے تھے۔ 11 مثال کے طور پر رومی تہذیب میں مارس کو جنگ کا دیوتا سمجھا جاتا تھا، وینس محبت اور حسن کی دیوی تھی، سیریس (Ceres) زراعت اور فصلوں سے متعلق تھی، جبکہ جینس دروازوں، سرحدوں اور تبدیلی کے مراحل (آغاز و اختتام) کا معبود مانا جاتا تھا۔ 12 اس طرح مذہب ایک تقسیم شدہ (compartmentalized) نظام بن گیا تھا، جس میں فرد اپنی ہر مخصوص ضرورت کے لیے الگ الگ رسوم اور عبادات ادا کرتا تھا۔ اس تقسیم کا ایک بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ جب مختلف دیوتاؤں کے اختیارات آپس میں متصادم ہو جاتے تو مذہبی رہنمائی میں ابہام پیدا ہو جاتا۔ عبادت کا مقصد اخلاقی اصلاح یا ہمہ گیر ہدایت کے بجائے محض دیوتاؤں کو خوش یا راضی کرنا رہ جاتا تھا تاکہ کسی نقصان سے بچا جا سکے یا وقتی فائدہ حاصل ہو جائے۔ یہی داخلی کشمکش اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ مشرکانہ نظام نہ تو معنی کا کوئی متحد ڈھانچہ فراہم کر پاتا ہے اور نہ ہی حتمی اخلاقی یا مقتدرانہ رہنمائی، بلکہ مذہب کو بکھری ہوئی رسوم اور مفادات کا مجموعہ بنا دیتا ہے۔

فلسفیانہ یا مجرد شرک (Philosophical / Abstract Polytheism)

بعض مذہبی روایتیں بظاہر متعدد دیوتاؤں کو برقرار رکھتی ہیں لیکن ان کے پس منظر میں ایک فلسفیانہ وحدت موجود ہوتی ہے۔ ایسے مذہب میں مختلف دیوتاؤں کو ایک ہی اعلیٰ ترین حقیقت کے مظاہر، پہلو یا تجلیات کے طور پرسمجھا جاتا ہے۔مثلا، ہندو فکر میں، دیوَتا کو برہمن (Brahman) جوان کے مطابق حتمی اور اعلیٰ حقیقت ہے،اس کی تجلیات کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اپنشدوں میں برہمن کو ایک ناقابلِ بیان جوہر کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو ہر طرح کےتنوع کے پیچھے کارفرما ہے جبکہ بعد کی ہندو روایتوں میں اس کو ادویت، ویدانت اور تثلیثِ ہندو (Trimurti) جیسے نظریات کے ذریعے منظم کیا گیا۔ 13 اسی طرح یونانی و رومی عہدِ قدیم میں افلاطون اور رواقی فلسفیوں(Stoics) نے بھی ایک خدا کے اصول(logos) کو ذکر کیا ہے جس کے مطابق حقیقی ابد و صمد خدا صرف ایک ہے، جس کے نتیجے میں اولمپیائی دیوتاؤں کو ثانوی حیثیت دی گئی۔ 14 اگرچہ اس طرح کی فلسفیانہ تعبیرات سے محسوس ہوتا ہے کہ انسان توحید کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا کیونکہ جب عملی طور پر دیوتاؤں کو محض تمثیلات یا تابع قوتوں میں تحلیل کر دیا جاتا ہے تو اکثر خدا کے تصور اور اس سے متعلق عقیدہ کمزور پڑ جاتا ہے جس کی وجہ سے انسان شکوک و شبہات کا شکار ہوکر الحاد کی طرف بھی چلا جاتا ہے۔

مندرجہ بالا تقسیم کے مطابق شرک متعدد خداؤں پر ایمان رکھنے کا نام ہےاور اس کی اقسام سادہ بت پرستی سے لے کر ایسے فلسفیانہ نظریات تک پھیلی ہوئی ہیں جن میں کثرت کو کسی ایک حقیقت کا ظہور سمجھا جاتا ہے۔ بعض اقسام، خصوصاً اساطیری شرک میں، دیوتاؤں کی باہمی کشمکش اور اخلاقی کمزوریاں نمایاتھیں، جنہوں نے تصور خدا کے حوالہ سے شکوک پیدا کیے۔ دوسری طرف شرک کی فلسفیانہ مباحث نے کثیر دیوتاؤں کو ایک ذات میں متحد کرنے کی کوشش کی۔ فلسفیانہ وضاحت نے ایک طرف زندگی کے مختلف پہلوؤں کے لیے خدائی طاقتوں کی وضاحت کی، لیکن دوسری طرف کثرت اور وحدت کے اندرونی تضاد نے لوگوں کو تشکیک میں مبتلا کردیا جس کی وجہ سے کچھ لوگ توحید کی طرف مڑ گئے جبکہ بقیہ نے الحادی فکر کا راستہ اختیار کیا۔

شرک کی کمزوریاں

مشرکانہ مذاہب میں کچھ ایسے اوصاف پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے ان مذاہب پر تنقید ہوتی ہے۔ ان میں سب سے نمایاں خداؤں کی کثرت ہے جو منطقی تضادات کو جنم دیتی ہے، دیوتاؤں کی انسان نما تصویر کشی ہے جو انہیں تمسخر کا آسان ہدف بنا دیتی ہے، اور اخلاقی و رسمی اضافیت ہے جو مختلف دیوتاؤں کی مختلف چاہتوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ شرک کے یہ اوصاف اس کے نظریات کی فکری ساکھ کو کمزور کرتے ہیں اور اسے شکی اور تنقیدی نگاہوں کے کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں۔

کثرت اور تضاد (Multiplicity and Contradiction)

شرک کی تعریف میں متعدد دیوتا اورخدائی طاقتیں شامل ہوتی ہیں۔ اس نظریہ کی وجہ سے کچھ اندرونی تضادات پیدا ہوتے ہیں جنہیں ایک منطقی ذہن حقیقت سے ہم آہنگ نہیں کر پاتا۔ جب ایک دیوتا کسی کام کا حکم دے اور دوسرا اس کےعکس کا، تو ماننے والا نا حل ہونے والی کشمکش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کئی دیوتاؤں کا ہمہ طاقت یا مطلق حاکمیت کا دعویٰ بھی عقلی طور پر ثابت نہیں ہوپاتا، کیونکہ حقیقی ہمہ طاقت تقسیم نہیں ہو سکتی، اور اگر ایک دیوتا دوسرے کے تابع ہو تو وہ مکمل معنوں میں خدا نہیں رہتا۔ 15 قدیم مشرکانہ روایات اس عدم استحکام کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں۔ یونانی اساطیر میں دیوتا نہ صرف آپس میں جھگڑتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے خلاف جنگیں بھی کرتے ہیں۔ 16 مثال کے طور پر ایلیڈ(Illiad) میں بیان کردہ ٹروجن کی جنگ(Trojan War) کافی حد تک زیوس (Zeus)، ایتھینا (Athena)، ہیرا (Hera)، افروڈائٹ (Aphrodite) اور دیگر دیوتاؤں کی باہمی رقابتوں کی وجہ سے ہوئی تھی۔ 17 اس طرح کی کہانیوں نے فلسفیانہ تنقید کو جنم دیا، کیونکہ بہت سے مفکرین نے یہ نکتہ اٹھایا کہ جو ہستیاں لڑتی ہوں، دھوکا دیتی ہوں یا ظلم کا ارتکاب کرتی ہوں، وہ حقیقی معنوں میں الوہیت کا نمائندہ یا عبادت کے لائق نہیں ہو سکتیں۔

زینوفینس(Xenophanes) جس کا تعلق کولفون سے تھا، چھٹی صدی قبل مسیح کا ایک مفکر تھا جس نے یونانی دیوتائی نظام کو منطقی بنیادوں پر براہ راست چیلنج کیا۔ اس کے مطابق لوگ دیوتاؤں کی طرف ایسے افعال اور فیصلے منسوب کرتے تھے جو غیر منصفانہ اور غیر اخلاقی تھے۔ اس کے علاوہ زینوفینس نے دیوتاؤں سےمنسوب باہمی جھگڑوں پر مبنی روایتی قصوں کا مذاق بھی اڑایا۔اپنی ایک تحریر میں زینوفینس نے نشاندہی کی کہ ہومر اور ہیسیوڈ، جو دیوتاؤں کےاوصاف و اعمال بیان کرنے والے معتبر شاعر سمجھے جاتے تھے،نے خود خداؤں کی طرف وہ تمام افعال منسوب کیے ہیں جو انسانوں کی طرف منسوب کرنا بھی شرمناک ہوتے ہیں جیسے کہ چوری، زنا اور ایک دوسرے کو دھوکا دینا۔ 18

زینوفینس کا نظریہ تھا کہ اگر اولمپی دیوتا خود جھوٹ بولتے ہیں، چوری کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو فریب دیتے ہیں تو انہیں سنجیدگی سے الوہی ہستیاں نہیں مانا جا سکتا۔ اس کے مطابق ایک حقیقی خدا کا اخلاقی طور پر یکساں، باوقار اور ایسی پست صفات سے بالا ہونا ضروری تھا۔ اس نے مشرکانہ عبادات اور فال گیری کے تضادات کی بھی نشاندہی کی، کیونکہ مختلف دیوتا اکثر ایک دوسرے کے خلاف گمراہ کن اشارے دیتے تھے، جس سے"دیوتاؤں" کی طرف رجوع کرنا ہی غیر مربوط اور بے معنی ہو جاتا تھا۔ 19

یونانی دیوتاؤں کی کثرت نے کائنات کی ابتدا اور اس کے نظم و نسق کی توضیح میں بھی سنگین مشکلات پیدا کیں۔ بعض نے اساطیری دیوتاؤں میں ترمیم کی، بعض نے انہیں نئے اصولوں کے تابع قرار دیا، جبکہ بعض نے فطرت کی منطقی توضیحات کے حق میں انہیں یکسر مسترد کر دیا۔ بعد کے مفکرین، جیسے افلاطون اور رواقی فلاسفہ نے اس تناؤ کو یوں حل کرنے کی کوشش کی کہ الوہیت کو متعدد انسان نما طاقتوں کے مجموعے کے بجائے ایک واحد کائناتی اصول، مثلاً روحِ عالم، عقلِ کلی یا لوگوس(logos)کے طور پر تعبیر کیاتاکہ وحدت کے ذریعے کائنات کی معقول تشریح ممکن ہو سکے۔ 20

بالآخر افلاطون نے قوانین، کتاب دہم (Laws Book-X) میں یہ موقف اختیار کیا کہ خداؤں کی طرف جھگڑے، بدعنوانی یا رشوت جیسے افعال منسوب کرنا انہیں انسانوں کے برابر کر دیتا ہے اور یوں ان سے حقیقی الوہیت چھن جاتی ہے۔ چونکہ سچے خدا کو عقل، وحدت اور اخلاقی کمال کا حامل ہونا چاہیے، اس لیے فاسد یا متغیر خداؤں پر ایمان درحقیقت حقیقی الوہیت کے انکار کے مترادف ہے۔ یہی تصور بہت سے مفکرین کو اس نتیجے تک لے گیا کہ اس قسم کے خداؤں کو ماننے کے بجائے الحاد یا فطرت پرستانہ(Naturalistic) توضیحات کو اختیارکر لیا جائے۔ 21

انسان نما تصور (Anthropomorphism)

مشرکانہ مذاہب کے دیوتا نہ صرف تعداد میں زیادہ تھے بلکہ انہیں غیر معمولی اوصاف کا حامل اور انسان کے مشابہ تصور کیا جاتا تھا۔ 22اگرچہ اس تصور نےدیو مالائی کہانیوں میں دیوتاؤں کو قابلِ فہم اور مانوس بنا دیا تھا، مگر اسی وجہ سے ان کی کمزوریاں بھی نمایاں ہو گئیں اور شکوک و شبہات کو بھی راہ ملی۔ 23زینوفینسزنےایک اہم نکتہ اٹھایا کہ مختلف ثقافتیں اپنے ہی خد و خال دیوتاؤں پر منطبق کر دیتی ہیں جیسے حبشی انہیں سیاہ فام اور چپٹی ناک والا سمجھتے تھے، جبکہ تھریسی لوگ(Thracians) سرخ بالوں اور نیلی آنکھوں والے دیوتاؤں کا تصور رکھتے تھے۔یہ بیان کرکے اس نے طنزاً کہا کہ اگر گھوڑے تصویریں بنا سکتے ہوتے تو وہ گھوڑوں جیسے دیوتا ہی بناتے۔ 24 اس تنقید نے یہ حقیقت آشکار کی کہ دیوتا ماورائی ہستیاں نہیں بلکہ ثقافتی تشکیل (cultural constructs) ہیں۔

ذہنی و نفسیاتی صفات کے اعتبار سے بھی ان دیوتا ؤں کو پوری طرح انسان کی مثل دکھایا گیاتھا جوشہوت، حسد، غصہ اور جانبداری جیسے جذبات سے لبریز تھے۔ دیوتاؤں کو ان اوصاف سے متصف کرنے کی وجہ سے ان کوطنز و مزاح کا نشانہ بنا یا گیا۔ یونانی ڈرامہ نگار اریسٹوفینز (Aristophanes)نے The Birdsاور The Clouds جیسی کامیڈیوں میں دیوتاؤں کا مذاق اڑایا، 25 جبکہ رومی ادیب لوشین(Lucian)نے انہیں حقیر اور بے اختیار دکھا کر ہدفِ تمسخر بنایا۔ 26جب دیوتاؤں کو خودغرض اور احمقانہ اوصاف کے ساتھ پیش کیا گیا تو ان کی مذہبی ساکھ کمزور پڑتی گئی اور شکوک کو مذہبی عقائد پر ترجیح دی گئی۔ خود زینوفینس اس نتیجے پر پہنچا کہ ایک سچا خدا انسانوں سے یکسر مختلف ہونا چاہیے۔ 27اس انسان نما تصویر (Anthropomorphism) پر تنقید نے بعد میں شرک کے رد، فلسفہ، فطرت پرستی اور توحید کی طرف فکری رجحان کی بنیاد فراہم کی۔

اخلاقی اور مذہبی اضافیت

شرک کی بڑی کمزوری کسی واحد مطلق العنان حاکم اعلیٰ کا فقدان ہے۔ ہر دیوتا کا اپنا اخلاقی ضابطہ اور اپنی مخصوص خواہشات ہوتیں ہیں جو اکثر دوسرے دیوتاؤں کے مطالبات سے متصادم ہوتیں ہیں، اور اس کے نتیجے میں اخلاقی اضافیت اور فکری انتشار پیدا ہوتاہے۔ افلاطون نے اس مسئلے کو اپنی تصنیف یوتھیفرو (Euthyphro) میں واضح طور پر پیش کیا، جہاں سقراط یہ ثابت کرتاہے کہ اخلاق کو ایسے جھگڑالو دیوتاؤں کے نظریات پر قائم کرنا منطقی طور پر ناممکن ہے کیونکہ وہ خود اس بات پر متفق نہیں کہ کون سی چیز مقدس ہے اور کون سی غیر مقدس۔ مکالمے میں سقراط کہتا ہے:

Socrates: The same things, it seems, are both hated by the gods and loved, and so would be both despised and beloved by them?
Euthyphro: It seems so.
Socrates: And the same things would be both pious and impious, Euthyphro, according to this argument? 28
سقراط: تو گویا ایک ہی چیز دیوتاؤں کے نزدیک محبوب بھی ہے اور مبغوض بھی، اور یوں وہ ایک ہی وقت میں ناپسندیدہ بھی ہوگی اور پسندیدہ بھی؟
یوتھیفرو: ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔
سقراط: تو پھر اسی دلیل کے مطابق، یوتھیفرو، ایک ہی چیز بیک وقت نیک بھی ہوگی اور بد بھی؟

یہ مکالمہ اس بات کو آشکار کرتا ہے کہ جب اخلاق کو متعدد متنازع خداؤں کی رضا سے وابستہ کر دیا جائے تو نیکی اور بدی کی کوئی معروضی بنیاد باقی نہیں رہتی۔ یہی تصور سوفِسطائی (Sophist) مفکرین میں نمایاں تھا، جو یہ استدلال کرتے تھے کہ اخلاق (nomos) انسانوں کی گھڑی ہوئی چیز ہے۔ اس فکر کی نمائندگی مشہور سوفِسطائی پروٹاگورس (Protagoras) کے اس قول میں ملتی ہے:

Man is the measure of all things. 29
انسان ہی تمام چیزوں کا پیمانہ ہے۔

اس قول کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت، سماجی قوانین اور اخلاقی قدر کسی خدا کے حکم پر منحصر نہیں بلکہ انسانی ادراک اور سماجی روایت پر منحصر ہے۔ اسی طرح ایک اور معروف سوفِسطائی سیاستدان کریٹیاس (Critias) کہتا تھا:

...I believe, that a shrewd and clever-minded man invented for mortals a fear of the gods... 30
…میرا خیال ہے کہ کسی ہوشیار اور زیرک انسان نے لوگوں کے لیے خداؤں کا خوف ایجاد کیا…

یہ اقوال اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مشرکانہ نظام میں اخلاقی اور مذہبی قوانین کوخدا کی طرف سے بھیجے گئے نظام کے بجائے انسانی اختراع سمجھا جانے لگا تھا اور یہی اخلاقی و رسمی اضافیت(Relativism) بالآخر شرک کی فکری بنیادوں کو کمزور کرنے کا سبب بنی۔

اس کے علاوہ رسوم و عبادات کا تنوع بھی شرک پر اعتماد کو کمزور کرنے کا سبب بنا۔ جو عمل ایک دیوتا کو خوش کرتا تھا، وہ کسی دوسرے دیوتا کے لیے باعثِ ناراضگی ہو سکتا تھا، 31 اور مختلف اقوام ایک دوسرے کی مذہبی رسومات کو بسا اوقات مضحکہ خیز یا ظالمانہ قرار دیتی تھیں۔ بعد میں رومی شاعر و فلسفی لوکریشیس (Lucretius) نے مذہب پر سخت تنقید کرتے ہوئے قربانی اور رسم کے نام پر کی جانے والی حرکات کو سرا سر شر اور جرم قرار دیا۔ پھر اس کے مقابل ایک فطرت پرستانہ (naturalistic) توضیحِ کائنات کی دعوت دی تاکہ انسان توہم پرستی سے نجات پا سکے۔ 32 اس نوع کی تنقید نے واضح کیا کہ رسوم کی کثرت خود تمام عبادتوں کی صداقت میں شک پیدا کر دیتی ہے۔

شرک نے اس نظریہ کو بھی فروغ دیا کہ دیوتاؤں سے اپنا کام کروانے کے لئے انہیں نذرانوں اور قربانیوں کی رشوت دی جاسکتی ہے۔ دینداری ایک لین دین بن گئی یعنی کہ ظلم یا بدعملی کے بعد قیمتی نذرانے پیش کر کے خدائی رضا حاصل کی جا سکتی ہے۔ افلاطون نے بھی اس رویّے کا مشاہدہ کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر نیک و عبادت گزار لوگ قربانیوں اور دعاؤں کے ذریعے دیوتاؤں کو ناانصافی معاف کرنے پر آمادہ کر لیتے ہیں۔ 33اسی طرح رومی شاعر اووِید (Ovid)نے یہ تصور بیان کیا کہ اس رشوت کے ذریعے دیوتاؤں سے نوازشات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ 34 افلاطون کے مطابق ایسی صفات کسی خدا میں نہیں ہوسکتی تھیں اور اگر کسی ذات میں پائی جاتی تھیں تو وہ خدا نہیں ہوسکتا تھا 35 لیکن عملی طور پر چونکہ دیوتاؤں کے مختلف اوصاف و کردار بیان کئے گئے تھے، جس میں شر کے پہلو بھی موجود تھے، لہذا اس کے ذریعے مشرکانہ مذہب کی بنیادیں مزید کمزور ہوگئی تھیں۔

دیوتاؤں کی کثرت اورمذہبی فرقوں کی کثرت نے خود عقیدے میں اضافیت (Relativism) پیدا کردی۔ بحیرۂ روم کے مختلف علاقوں میں عبادت گزار کبھی اولمپین دیوتاؤں، کبھی مقامی ارواح، کبھی ہیروز، اور کبھی باہر سے آئے ہوئے مذہبی عقائد کی طرف رجوع کر تےتھے۔ ہیلینسٹک اور رومی ادوار تک پہنچتے پہنچتے بہت سے تعلیم یافتہ افراد اس تنوع کوخدا کی طرف سے ہدایت کے بجائے ثقافتی تمثیل یا شاعرانہ علامت سمجھنے لگے۔ 36 کثیر دیوتا اور مذہبی عقائد نے عوام کو خدا کے معاملہ میں کافی روادار یا بے حس بنا دیا اور فلاسفہ کے ذہن میں شکوک و شبہات کو جنم دیا جس کی وجہ سے اس خیال کو تقویت ملی کہ خداؤں کا تصور دراصل انسانی تخلیق ہے۔ 37

مجموعی طور پر، شرک میں اخلاقی اور رسمی حاکمیت کی تقسیم نے اس تصور کو برقرار رکھنا مشکل بنا دیا کہ خدا کا قانون حقیقی طور پر دنیا پر حکمرانی کرتا ہے۔ جب کوئی ایک خدائی اخلاقی معیار باقی نہ رہا تو کچھ لوگوں نے اخلاقیات اور قانون کو خدا کی ہدایت کےبجائے انسانی کاوشوں سے لینا شروع کر دیا۔ یوں اخلاق عملاً غیر مذہبی (secular) بن گیا، اور جب مذہبی عقائد، عبادات اور دیوتاؤں پر کوئی واضح اتفاق باقی نہ رہا تو بہت سوں نے مذہب کو حقیقت کے بجائے روایت سمجھ لیا، جس سے ایمان کی گرفت کمزور پڑی اور بعض افراد کھلے الحاد کی طرف مائل ہو گئے۔

شرک سے شکوک تک کا فکری سفر

مندرجہ بالا کمزوریوں کے پیشِ نظر یہ بات حیران کن نہیں کہ مشرکانہ تہذیبوں کے اندر ہی سے ان پر تنقیدی ردِّعمل پیدا ہوا۔ شرک کے اندر موجود فکری تضادات، اخلاقی ابہام اور رسمی انتشار نے رفتہ رفتہ اس کے اپنے نظام میں دراڑیں ڈال دیں، جو بالآخر شکوک، تشکیک اور بعض صورتوں میں کھلے الحاد تک جا پہنچیں۔ ذیل میں دی گئی تصویر اس تفصیل کی واضح عکاسی کرتی ہیں:

image

فلسفیانہ تنقید

مشرک معاشروں میں فلاسفہ نےابتداءً خداؤں کا صریح انکار نہیں کیا۔ اس کے بجائے انہوں نے دیوتاؤں کی نئی تعبیر کی جس کے تحت ان کے کردار کو محدود کیا، یا انہیں فطری و عقلی توضیحات میں تحلیل کر دیا۔ 38 یہ سلسلہ تدریجا چلتا رہا یہاں تک کہ معاشرے میں ایسے نظریات عام کردئے گئےکہ ایک عام بندے کے اندر یہ احساس پیدا ہوگیا کہ اس کو اب خداؤں کی ضرورت نہیں ہے۔ پانچویں صدی قبلِ مسیح تک یونان میں یہ فکر مذہبی سوچ پر گہرا اثر ڈال چکی تھی اور ملحدانہ نظریات کی طرف پیش قدمی ہو رہی تھی 39 حالانکہ الحاد کی اصطلاح اُن معنوں میں اس وقت اس معاشرے میں متعارف نہیں ہوئی تھی۔

یونانی دیوتاؤں کے ناقدوں میں سے ایک بڑا ناقد زینوفینس تھا جس نے ہومر (Homer)اور ہیسیوڈ (Hesiod) کے بیان کردہ دیوتاؤں کے کردار اور اوصاف پر کھلی تنقید کی۔ اُس نے اس حقیقت کو واضح کیا کہ چونکہ ہر قوم اپنے خداؤں کو اپنے ہی مشابہ تصور کرتی ہے اسی لئے ان کے نزدیک خدا آپس میں جھگڑ سکتے ہیں، چوری یا زنا وغیرہ بھی کر سکتے ہیں۔ 40 اس انسان نما تصور کے برعکس، زینوفینس نے ایک ایسے واحد، ارفع اور اعلیٰ خدا کا تصور پیش کیا جو غیر متغیر اور محض اپنے خود مختار ارادے سے کائنات پر حکمرانی کررہا ہے۔ 41 اگرچہ زینوفینس کا یہ موقف کسی جہت سے بھی صریح الحاد نہیں تھا، لیکن اس نے عملاً پورے دیوتائی نظام کو ختم کر کے اس وقت کے رائج مذہب سے بالکل مختلف عقیدہ کی طرف دعوت دی تھی۔

اناکساگورس (Anaxagoras) نے فلکیات کے بارے میں ایک نہایت جرات مندانہ اور انقلابی قدم اٹھایا۔ وہ پہلا فلسفی تھا جس نے تحریری طور پر یہ نظریہ پیش کیا کہ چاند کی گھٹتی بڑھتی شکلیں (یعنی چاند کے مراحل) کسی دیوی یا خدائی طاقت کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی اپنی طبعی ساخت کی وجہ سے ہیں۔ اس کے مطابق چاند ایک زمین جیسا مادی جسم ہے جو سورج کی روشنی کو منعکس کرتا ہے، اسی انعکاس کی بنا پر ہمیں کبھی ہلال، کبھی نصف اور کبھی پورا چاند نظر آتا ہے۔ 42 یہ نظریہ اس زمانے کے مذہبی تصورات کے خلاف تھا کیونکہ قدیم یونان میں فلکیاتی اجسام کو دیوتاؤں کی علامت یا ان کی تجلی سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ ایتھنز میں اناکساگورس پر بے دینی (impiety) کا الزام لگا دیا گیا۔ 43 تاہم اس کے پیش کردہ عقلی اور فطری دلائل کو مکمل طور پر دبایا نہ جا سکا۔ بعد کے ادوار میں آہستہ آہستہ یہ سوچ مضبوط ہوتی چلی گئی کہ آسمانی اجسام بھی مادی اشیاء ہیں جو قدرتی قوانین کے تحت حرکت کرتے ہیں، نہ کہ کسی ذاتی یا الوہی ہستی کے ارادے سے۔

ڈیموکریٹس (Democritus) نے اپنے استاد لیوسیپس (Leucippus) کے ساتھ مل کر اس فکری پیش رفت کو ایک اور قدم آگے بڑھایا اور نظریۂ ایٹم (Atomic Theory) کی بنیاد رکھی۔ اس کے مطابق کائنات کی ہر چیز انتہائی باریک، ناقابلِ تقسیم ذرات یعنی ایٹمز پر مشتمل ہے جو خلا میں مسلسل حرکت کرتے رہتے ہیں۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق ڈیموکریٹس نے یہاں تک کہا کہ انسانوں کو جو خداؤں کے نظارے یا مشاہدات ہوتے ہیں، وہ دراصل ایٹمز کی نہایت باریک لہریں یا تصویری اثرات ہیں جو انسانی حواس سے ٹکراتی ہیں اور ذہن میں ایک تصور پیدا کر دیتی ہیں 44 یعنی الوہی تجربات کو بھی اس نے خالص مادی اور طبیعی عمل قرار دیا۔ اس مادّی نظریہ نے کائنات کے پسِ پردہ کسی ماورائی یا الٰہی علت کی ضرورت کو ختم کر دیا اور ابتدائی الحاد کو ایک بنیاد فراہم کی۔

پروڈیکس آف کیوس (Prodicus of Keos) نے مذہب کے آغاز کی ایک عقلی اور تجزیاتی توضیح پیش کی۔ اس کے مطابق ابتدائی انسانوں نے سب سے پہلے اُن قدرتی عناصر کو معبود بنا لیا جو ان کی زندگی کو سہارا دیتے تھے، مثلاً سورج جو روشنی اور حرارت دیتا ہے، دریا جو پانی فراہم کرتے ہیں، اور پھل جو غذا مہیا کرتے ہیں۔ رفتہ رفتہ یہی ذہنیت آگے بڑھی اور انسانوں نے اُن افراد کو بھی خداؤں کا درجہ دے دیا جنہوں نے کوئی مفید فن یا ایجاد پیش کی جیسے زراعت، آگ کا استعمال، یا دیگر ہنر جو انسانی زندگی کو آسان بناتے تھے۔ پروڈیکس کے اس تجزیے میں خدا کوئی ماورائی یا آسمانی ہستی نہیں رہا، بلکہ انسانی شکرگزاری، ضرورت اور فائدہ مندی کا ایک ذہنی عکس بن گیا۔ 45 یعنی پروڈیکس کے مطابق انسان اپنی حاجات اور تجربات کو تقدیس کا رنگ دے کر انہیں معبود کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ اس طرح الوہیت کو انسانی ایجاد قرار دے کر اس نے مذہب کی مقدس حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کی اور شکوک و شبہات کے لیے راستہ ہموار کیا۔

سوفِسطائیوں (Sophists) اور سقراطی مکتبِ فکر سے وابستہ مفکرین نے ان تنقیدی خیالات کو محض فلسفیانہ مباحث تک محدود نہ رکھا بلکہ انہیں عوامی زندگی اور سماجی گفتگو کا حصہ بنا دیا۔ میلوس کا ڈایاگورس (Diagoras of Melos) اس قدر مشہور ہو گیا کہ اسے کھلے طور پر "ملحد" کہا جانے لگا، کیونکہ وہ مذہبی رسومات کا تمسخر اڑاتا تھا اور دیوتاؤں کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا تھا۔ 46 اسی طرح کریتیاس (Critias) نے اپنے مشہور ڈرامائی اقتباس سیسی فس (Sisyphus Fragment) میں مذہب کو ایک سوچا سمجھا انسانی گھڑا ہوا قصہ قرار دیا۔ اس کے مطابق کسی ہمہ بین خدا (all-seeing deity) کا تصور اس لیے ایجاد کیا گیا تاکہ لوگ ہر وقت نگرانی کے خوف میں رہیں، گناہوں اور جرائم سے باز آئیں، اور سماجی نظم قائم رہے 47 یعنی مذہب کو اخلاقی کنٹرول کے ایک نفسیاتی اور سیاسی ہتھیار کے طور پر بیان کیا گیا۔

ایپی کیورس (Epicurus) اور لوکریشس (Lucretius) نے ان فکری رجحانات کوان کی حتمی صورت تک پہنچایا۔ ایپی کیورس کا مؤقف یہ تھا کہ اگر دیوتا موجود بھی ہوں تو وہ کامل سکون اور بے نیازی کی حالت میں رہتے ہیں اور انسانی معاملات سے بالکل لاتعلق ہیں۔ 48 یعنی وہ نہ انسان کی دعاؤں سے متاثر ہوتے ہیں، نہ سزا و جزا میں مداخلت کرتے ہیں اور نہ ہی کائنات کے روزمرہ نظام کو چلاتے ہیں۔ اس تصور کا عملی نتیجہ یہ نکلا کہ انسانی زندگی میں خدا کا کردار غیر مؤثر ہو گیا۔ لوکریشس نے اپنی مشہور تصنیف " فطرت کی ماہیت پر " (On the Nature of Things) میں اسی فکر کو شاعرانہ قوت کے ساتھ آگے بڑھایا۔ اس کے نزدیک کائنات ایٹمز اور خلا کے قوانین کے تحت چل رہی ہے، نہ کہ کسی خدائی خواہش، مزاج یا غیر متوقع ارادے کے تحت۔ 49 اس نے مذہب کو خوف، دہشت اور بعض اوقات ظلم و قساوت کا سرچشمہ قرار دیا اور ایپی کیورس کو ایک ایسے محسن کے طور پر سراہا جس نے توہم پرستی کو اپنے قدموں تلے روند کر انسان کو ذہنی آزادی عطا کی۔ 50 اگرچہ ایپی کیوری مکتبِ فکر نے رسمی طور پر خداؤں کے وجود کا انکار نہیں کیا، لیکن انہوں نے خداؤں کو انسانی زندگی کے لیے غیر متعلق بنا دیا تھا۔ یوں ایک ایسا تصورِ حیات فروغ پایا جس میں انسان خدا کے بغیر بھی سوچ سکتا تھا اور زندگی گزار سکتا تھا۔ 51 یہ دراصل الحاد کی ایک نرم اور تدریجی شکل تھی، جس میں انکار سے زیادہ بے نیازی اور عملی لاتعلقی نمایاں تھی۔

درج بالا تفاصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عقلی توضیحات اور تنقیدی نظریات دراصل مشرکانہ عقائد و روایات سے ذہنی بے اطمینانی کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔ فلسفیوں نے بتدریج دیوتاؤں سے انسانوں کی طرف سے دئے گئے اوصاف و اختیارات چھین لئے۔ اولاً دن اور رات کی وضاحت فطری قوانین سے کی گئی، پھر گرج چمک اور زلزلوں کو طبیعی اسباب سے سمجھایا گیا، پھر زندگی اور شعور کو بھی مادی عوامل سے جوڑ دیا گیا۔ ہر قدم کے ساتھ خداؤں کی فکری ضرورت کم ہوتی گئی۔ اسی کے ساتھ مذہب کو نفسیاتی یا سماجی ضرورت کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ رومی عہد تک پہنچتے پہنچتے ایک تعلیم یافتہ شخص تقریباً ہر واقعے کی نسبت یا تو فطرت سے کر سکتا تھا یا انسانی عمل سے جبکہ خدا محض علامتی کردار میں رہ گئے تھے۔ یوں فلسفے کی مسلسل یلغار کے نتیجے میں مشرکانہ مذہب کا دائرہ سکڑتا چلا گیا، یہاں تک کہ بعض اذہان کے نزدیک قدیم مشرکانہ مذہب کا کوئی عقیدہ قابلِ اعتبار نہ رہا جبکہ دوسری طرف خاموشی سے ایک عالمی الحادی تصور جڑ پکڑ تا گیا۔

طنز اور تمسخر (Satire and Ridicule)

شرک پر علمی اور فلسفیانہ تنقید نہایت مؤثر تھی، لیکن عوامی ثقافت میں طنز، مزاح اور بے تکلف بے ادبی نے مذہبی رویّوں میں اس سے بھی زیادہ گہری تبدیلی کی نشاندہی کی۔ قدیم مشرکانہ معاشروں میں، بالخصوص یونان کے آخری کلاسیکی دور اور رومی تہذیب میں، وہ دیوتا جو کبھی خوف اور تقدیس کی علامت سمجھے جاتے تھے، آہستہ آہستہ ادب، شاعری اور تھیٹر میں مزاحیہ، کمزور، غلطی کرنے والے بلکہ بعض اوقات مضحکہ خیز کرداروں کی صورت میں پیش ہونے لگے۔ 52 یہ تبدیلی محض تفریح کا معاملہ نہ تھی بلکہ اجتماعی ذہنیت میں ایک بنیادی انقلاب کی علامت تھی۔ جب کسی معاشرے میں مقدس ہستیوں پر ہنسا جانے لگے، ان کی کمزوریوں کو نمایاں کیا جائے اور انہیں انسانی خامیوں کے ساتھ دکھایا جائے، تو دراصل تقدس کا حصار ٹوٹنے لگتا ہے۔

قدیم ایتھنز میں عوامی مزاح اور طنز بھی مذہبی تصورات کو کھلے عام چیلنج کرنے لگا تھا۔ مشہور مزاحیہ ڈرامہ نگار ارسطوفانیس (Aristophanes) اس رجحان کی نمایاں مثال ہے جس نے اسٹیج پر دیوتاؤں کا بے باکی سے مذاق اڑایا۔ 53 اس کے ڈرامے "بادل" (The Clouds) میں سقراط کی ایک طنزیہ تصویر پیش کی گئی ہے، جہاں بارش کا سبب زیوس (Zeus) جیسے دیوتا کو نہیں مانا جاتا بلکہ ایک فرضی قدرتی قوت یعنی "گرداب" (vortex) کی قسم کھائی جاتی ہے۔ 54 اسی طرح ڈرامہ"پرندے" (The Birds) میں وہ ایک خیالی منظر دکھاتا ہے کہ پرندے آسمان میں اپنا شہر تعمیر کرتے ہیں اور اولمپی دیوتاؤں سے قربانیاں طلب کرتے ہیں۔ اس منظر کے ذریعے پورے مذہبی نظام اور دیوتاؤں کی بالادستی کا تمسخر اڑایا جاتا ہے۔ 55 حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ ڈرامے عوامی تہواروں میں پیش کیے جاتے تھے اور بعض اوقات انعامات بھی جیتتے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایتھنز کے لوگ نہ صرف دیوتاؤں کے بارے میں اس بے ادبانہ مزاح کو برداشت کرتے تھے بلکہ اس سے لطف بھی اٹھاتے تھے۔ 56

روزمرہ زندگی کے لطیف طنز نے بھی مذہبی تقدس کو آہستہ آہستہ کمزور کیا۔ سینوپے كا ڈایوجینس (Diogenes of Sinope) اپنی تیز و تند باتوں اور کاٹ دار جملوں کے لیے مشہور تھا، اور وہ مذہبی رسومات کا کھلے عام مذاق اڑاتا تھا۔ وہ لوگوں کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بناتا کہ وہ معمولی اور چھوٹی باتوں کے لیے دعائیں مانگتے ہیں، حالانکہ وہ خود اپنی محنت اور عقل سے ان مقاصد کو حاصل کر سکتے ہیں اور انہیں کسی خدائی مدد کی ضرورت نہیں۔ ایک اور مشہور واقعے میں اس نے کہا کہ اگر دیوتا واقعی موجود ہیں تو قربانیاں انہیں توہین آمیز محسوس ہوں گی، اور اگر وہ موجود ہی نہ ہوں تو یہ محض وقت اور وسائل کا ضیاع ہیں۔ 57 اس طرح اس نے عبادات اور قربانی جیسے مذہبی اعمال کو طنز و تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ اندازِ فکر دراصل تقدیس کے خاتمے کی علامت تھا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ روایتی اساطیری خداوؤں سے لوگوں کی وابستگی کمزور ہوتی جا رہی تھی۔ 58 قدیم یونان میں تھیٹر کی مزاحیہ پیشکشیں، طنزیہ نظمیں اور روزمرہ کےلطائف جو دیوتاؤں کی کمزوریوں اور غلط حرکات کا مذاق اڑاتے تھے، محض تفریح نہیں تھے بلکہ ایک ایسی تہذیب کی ثقافتی علامت تھے جہاں مذہبی عقائد نفسیاتی اور اخلاقی سطح پر ازسرِ نو تشکیل پا رہے تھے۔ اس ماحول میں مزاح ایک محفوظ ذریعہ بن گیا جس کے ذریعے خطرناک خیالات کو بغیر کھلے تصادم کے عام کیا جا سکتا تھا۔ مشرکانہ معاشرے میں دیوتاؤں پر لطیفے اس بات کی علامت بن گئے کہ شاید یہ دیوتا حقیقت کے حاکم نہیں بلکہ محض کہانیوں کے کردار ہیں۔جب یہ احساس جڑ پکڑنے لگا تو الحاد کی راہ ہموار ہو گئی۔ یوں دیوتا ایک "کھلا مذاق" بن کر رہ گئے، اور جو لوگ انہیں لفظی معنوں میں حقیقی مانتے رہے، انہیں رفتہ رفتہ سادہ لوح یا کم فہم سمجھا جانے لگا۔ اس طرح مشرکانہ مذہب کے زوال کو خود اس کے ماننے والوں کی ہنسی نے تیز کر دیا، اور ایک نئے فکری دور کی بنیاد پڑی جس میں ایمان کی جگہ عقل اور شک نے لینا شروع کر دی۔

مذہبی مایوسی (Religious Disillusionment)

قدیم روم و یونان میں لوگوں نے دیوتاؤں پر ایمان صرف فلسفیانہ تنقید یا طنز و مزاح کی وجہ سے ہی نہیں چھوڑا، بلکہ جذباتی اور عملی سطح پر پیدا ہونے والی مایوسی بھی اس کا ایک بڑا سبب بنی۔ جب مذہب انسان کو زندگی کا واضح مقصد، مضبوط اخلاقی رہنمائی، یا حقیقی روحانی گہرائی فراہم نہ کر سکا، اور جب وہ محض کھوکھلی رسومات، رسمی عبادات، یا مفاد پرست طبقات کے ہاتھوں استحصال کا ذریعہ بن گیا، تو سنجیدہ اور باشعور افراد کا اس سے دل اٹھنے لگا۔ایسے ماحول میں مذہب دل کو تسکین دینے کے بجائے بوجھ محسوس ہونے لگا اور روح کی پیاس بجھانے کے بجائے صرف ظاہری عمل تک محدود ہو گیا۔ نتیجتاً بہت سے اہلِ فکر نے دیوتاؤں کے تصور سے کنارہ کشی اختیار کر لی، کیونکہ انہیں اس نظام میں نہ فکری اطمینان ملا، نہ اخلاقی اعتماد اور نہ ہی روحانی معنویت۔

یونان میں اسی طرح کی تشکیک کا رخ غیبی پیش گوئی کرنے والے اداروں (oracles) کی طرف بھی ہوا۔ ڈیلفی کا مشہور معبدِ پیش گوئی (Oracle of Delphi) وقت کے ساتھ اس وجہ سے بدنام ہونے لگا کہ اس کے جوابات مبہم، ذو معنی یا جانبدارانہ ہوتے تھے، جس سے عوام کا اعتماد مجروح ہوا۔ 59جب لوگ بار بار یہ محسوس کرنے لگے کہ پیش گوئیاں واضح رہنمائی دینے کے بجائے محض الفاظ کا کھیل ہیں، تو مذہبی اتھارٹی کی ساکھ کمزور ہوتی چلی گئی۔ اسی دور میں یوہیمرس (Euhemerus، تقریباً 300 ق۔م) نے یہ نظریہ پیش کیا کہ دیوتا دراصل قدیم زمانے کے بادشاہ یا طاقتور انسان تھے جنہیں بعد میں مبالغہ آرائی کے ذریعے خدائی مرتبہ دے دیا گیا۔ 60یہ تصور عام لوگوں میں پھیلی ہوئی بدگمانی اور شکوک کے ساتھ خوب ہم آہنگ ہو گیا، کیونکہ بہت سے لوگ پہلے ہی مذہبی روایت کی صداقت پر سوال اٹھا رہے تھے۔ ایسے فکری ماحول میں اگرچہ ظاہری طور پر مذہبی رسومات جاری رہیں، مگر اندرونی سطح پر خاموش بے یقینی اور عدمِ اعتماد جنم لینے لگا۔

کچھ مفکرین اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور انہوں نے مذہب کو محض غلط فہمی نہیں بلکہ ایک دانستہ انسانی ایجاد قرار دیا۔ کریتیاس (Critias) سے منسوب مشہور اقتباس سیسی فس (Sisyphus Fragment) میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک قانون ساز نے جان بوجھ کر ایک "ہمہ بین خدا" کا تصور گھڑا تاکہ لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا ہو، وہ قانون کی پابندی کریں اور نافرمانی سے باز رہیں 61 یعنی خدا کا تصور ایک نفسیاتی دباؤ اور سماجی نظم قائم رکھنے کا ذریعہ تھا۔ کریتیاس کے نزدیک مذہب ایک ”جھوٹی کہانی“ تھا جو کنٹرول اور اقتدار کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ مذہب کی اس توضیح نے اس کے ماننے والوں کے دل میں مزید شک اور مایوسی پیدا کرنا شروع کردی۔ اسی نوع کی مایوسی اور بداعتمادی نے روم میں بھی طنز اور تشکیک کو جنم دیا۔ وہاں کے ناقدین یہ مشاہدہ کرنے لگے کہ دیوتا حقیقت میں عدل و انصاف کے سرچشمے نہیں تھے بلکہ اقتدار کے آلے تھے جنہیں حکمران اور طاقتور طبقے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتےتھے۔ لہذا لوگ آہستہ آہستہ اس مشرکانہ مذہب سے بیزار ہونا شروع ہوگئے۔

مندرجہ بالا امثال میں انسانوں کا روم و یونان میں رائج مذاہب سے عدم اطمنان مشرکانہ مذاہب کے جھوٹے، غیر معنوی اور خود ساختہ عقائد کی وجہ سے تھا۔ جب مشرکانہ نظام واضح اخلاقی رہنمائی نہ فراہم کر سکا، نہ کائنات کی قابلِ اعتماد توضیح پیش کر سکا، تو انسان کا اس پر اعتماد متزلزل ہونے لگا۔ یوں خدا سے عملی بے نیازی مذہبی مایوسی کی شکل میں سامنے آئی۔ جب لوگوں کو یہ محسوس ہونے لگا کہ دیوتا نہ سنتے ہیں، نہ پروا کرتے ہیں اور نہ زندگی کے حقیقی مسائل کا جواب دیتے ہیں، تو کچھ افراد نے ان پر ایمان رکھنا چھوڑ دیا اور انسانی عقل و شعور کو اپنا رہنما بنا نا شروع کردیا۔

دیگر تاریخی و تہذیبی امثال

دیگر تاریخی و تہذیبی امثال کی طرف جب ہم توجہ کرتے ہیں جہاں مشرکانہ عقائد کا سامنا تشکیک اور عقلی رجحانات سے ہوا تو وہاں ہندوستان اور قدیم چین کے احوال ہمارے سامنے آتے ہیں۔ یہ دونوں وہ خطّے ہیں جہاں مشرکانہ مذہبی عقائد کا سامنا تشکیک اور عقلی رجحانات سے ہوا اور لوگوں نے مذہب بیزاری کا راستہ اختیار کیا۔ ان کی مختصر تصریحات درجِ ذیل ہیں:

ہندوستانی مشرکانہ مذہب — چارواکا مادّیت ( Carvaka Materialism)

قدیم ہندوستان میں تشکیک اور انکار کی داستان ایک منفرد انداز میں سامنے آئی۔ ابتدائی ویدی مذہب (تقریباً 1500–1200 ق-م) مشرکانہ تھا، جس میں اندرا، اگنی اور ورُن جیسے دیوتاؤں کی پرستش کی جاتی تھی۔ 62وقت کے ساتھ ایک موروثی پجاری طبقہ یعنی برہمن مضبوط ہوتا چلا گیا، جس نے پیچیدہ قربانیوں اور رسومات کے ذریعے مذہبی اختیار اپنے ہاتھ میں مرکوز کر لئے۔ یوں عبادت کا اصل مرکز اخلاقی اصلاح یا روحانی بالیدگی کے بجائے رسمی اعمال بن گئے۔آٹھویں سے چوتھی صدی قبل مسیح کے درمیان ہندوستانی معاشرہ ایک فکری ہلچل کے دور میں داخل ہوا، جسے عموماً Axial Age کہا جاتا ہے۔ اس دور میں متعدد متبادل تحریکیں ابھریں جنہوں نے ویدی مذہب کی بالادستی کو چیلنج کیا۔ ان میں شرمن (Sramana) روایات شامل تھیں، جیسے بدھ مت اور جین مت، 63 جنہوں نے دیوتاؤں کی اہمیت کو کم کر دیا یا انہیں نظر انداز کیا، 64 اور اخلاقی ضبطِ نفس اور نجات کے عملی راستوں پر زور دیا۔ان ہی تحریکوں میں ایک نہایت نمایاں اور جرات مند مکتبِ فکر چارواکا / لوکایت (Carvaka / Lokayata) تھا، جو کھلے عام مادّی اور کسی حد تک ملحدانہ تھا۔ چارواکوں نے ویدوں کی مذہبی اتھارٹی کو رد کیا، خدا، کرما (karma) اور دوبارہ جنم (rebirth) کے تصورات کا انکار کیا، اور علم کا واحد معتبر ذریعہ براہِ راست حسی مشاہدہ (pratyaksa) کو قرار دیا۔ ان کے نزدیک جو حسیات اور تجربے سے ثابت نہ ہو، وہ علم کے دائرے میں ہی نہیں آتا۔ چارواکا فلسفہ یہ بھی سکھاتا تھا کہ شعور مادّے ہی سے پیدا ہوتا ہے یعنی روح کوئی مستقل اور ماورائی حقیقت نہیں بلکہ جسمانی عناصر کی ایک ترکیب ہے۔ اسی طرح ان کے نزدیک موت آخری انجام ہے، اس کے بعد کوئی حیاتِ دیگر یا حساب و کتاب نہیں۔ 65 ان کا مشہور مقولہ اسی طرزِ فکر کی نمائندگی کرتا ہے:

“While life is yours, live joyously;
None can escape Death’s searching eye:
When once this frame of ours they burn,
How shall it e’er again return?” 66
جب تک سانسیں باقی ہیں، زندگی کو بھرپور طریقے سے اور خوشی کے ساتھ جیو
موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کی نظر ہر کسی پر ہے اور اس سے فرار ممکن نہیں
یہ ڈھانچہ (انسانی جسم ) جب جلا کر فنا کیا جائے گا(جو مٹی یا راکھ بن جاتا ہے)
تو یہ دوبارہ کیسے واپس آئے گا؟

یہ قول دراصل زندگی کی توثیق کرنے والی مادّیت (life-affirming materialism) کا خلاصہ تھا۔ اس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ انسان محض عیش و عشرت یا بے لگام خواہشات میں مبتلا ہو جائے، جیسا کہ بعض ناقدین نے الزام لگایا، بلکہ اس فکر کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ انسان اپنی توجہ اسی دنیا کی حقیقی ذمہ داریوں، خوشیوں اور مسائل پر مرکوز کرے، نہ کہ ایک غیر یقینی اور وہمی آخرتی دنیا کے وعدوں پر۔

چارواکا کے اصل متون زیادہ تر اُن کے مخالفین کی تحریروں کے ذریعے محفوظ ہوئے ہیں، تاہم ان میں مذہبی رسوم اور پجاری طبقے کی اتھارٹی پر بہت گہری تنقید ملتی ہے۔ وہ قربانی کی رسومات کا مذاق اڑاتے تھے، راہبانہ سختیوں اور ترکِ دنیا کے طریقوں کو بے معنی قرار دیتے تھے، اور برہمن پجاریوں پر یہ الزام لگاتے تھے کہ انہوں نے ذاتی مفادات کے لیے ویدوں کو گھڑا ہے۔ ایک مقام پر ویدوں کو فریب کار پجاریوں کا "مسخرہ پن"بھی کہا گیا ہے، 67جبکہ ایک اور طنزیہ مثال میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر قربانی میں مارے جانے والے جانور واقعی جنت پہنچ جاتے ہیں تو اسی منطق کے تحت انسان کو اپنے باپ کو بھی قربان کر دینا چاہیے تاکہ اسے بھی جنت مل جائے۔ 68 یہ طنز دراصل اس زمانے کے مشرکانہ مذہب سے شدید ذہنی بیزاری اور بداعتمادی کی عکاسی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ چارواکا روایت ہندوستان کی تاریخِ فکر میں الحاد کی اولین منظم اور مسلسل مثالوں میں شمار ہوتی ہے، جو محض جذباتی انکار نہیں بلکہ عقلی تنقید اور مذہبی منافقت سے اخلاقی بیزاری کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ ان کی فکری للکار نے ہندوستانی مذہبی فکر کی سمت کو بھی متاثر کیا اور مذہب، عقل اور اخلاق کے باہمی تعلق پر نئی ابحاث کو جنم دیا۔

اسی طرح ہند کے دیگر مفکرین بھی سامنے آئے، مثلاً اجیت کیشکمبلن (Ajita Kesakambalin)، جس نے روح اور آخرت کے وجود کا انکار کیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ موت کے بعد انسان کے اجزاء دوبارہ انہی طبعی عناصر میں تحلیل ہو جاتے ہیں جن سے وہ بنا تھا۔ 69اس کے نزدیک نہ کوئی باقی رہنے والی روح ہے اور نہ کسی قسم کا حساب و جزا۔ یوں ایسے خیالات رکھنے والے مفکرین نے مل کر ہندوستانی فکری روایت کے اندر ایک تشکیکی اور تنقیدی ذیلی ثقافت (skeptical counterculture) تشکیل دینا شروع کی، جو غالب مذہبی تصورات سے ہٹ کر عقل، تجربے اور مادّی حقیقت کو مرکز بناتی تھی۔

حیران کن طور پر، ایتھنز کے برعکس، جہاں بے دینی بعض اوقات موت کی سزا تک لے جاتی تھی، ہندوستان میں چارواکوں کا مقابلہ زیادہ تر علمی اور فلسفیانہ مباحث کے ذریعے کیا گیا۔ انہیں سماجی طور پر کچلا نہیں گیا بلکہ دلیل کے میدان میں جواب دیا گیا۔ ان کے اثر کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بعد کے تقریباً تمام ہندو فلسفیانہ نظاموں میں مادّیت کی تفصیلی تردید موجود ہے، 70 جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ فکر ایک سنجیدہ فکری چیلنج بن چکی تھی۔اسی فکری دباؤ کے نتیجے میں ہندو روایت کے اندر اصلاح اور ارتقاء پیدا ہوا۔ جانوروں کی قربانی بتدریج کم ہونے لگی، اور عقائد میں تبدیلیاں کی گئیں جس کے ذریعے اخلاقی اور روحانی پہلوؤں کو زیادہ نمایاں کیا گیا۔یوں اس مشرکانہ مذہب نے اپنے اندر تبدیلی پیدا کر کے اپنی بقا اور تجدید کی راہ نکالی۔اس کے برعکس یونان کا اولمپی مذہب فلسفیانہ تنقید اور بعد میں عیسائیت کے پھیلاؤ کے سامنے خود کو منظم انداز میں نئے سرے سے تشکیل نہ دے سکا، نتیجتاً وہ آہستہ آہستہ تاریخ کے پس منظر میں چلا گیا۔

قرونِ وسطیٰ تک پہنچتے پہنچتے چارواکا وجود بطورِ ایک باقاعدہ فلسفیانہ مکتبِ فکر کےعملاً ختم ہو چکا تھا، مگر اس کے فکری اثرات مکمل طور پر مٹ نہیں سکے۔ 71 اگرچہ اس کی منظم روایت باقی نہ رہی، لیکن تجربیت (empiricism) اور تشکیک (skepticism) کے بعض عناصر دوسرے فلسفیانہ نظاموں میں دوبارہ ظاہر ہوتے رہے۔ مثال کے طور پر نیائے (Nyaya) مکتب نے علم کے حصول میں حسی ادراک اور منظم استدلال کو غیر معمولی اہمیت دی، جبکہ سانکھیہ (Sankhya) فلسفہ نے غیر الہیاتی تصورِ کائنات کو اہمیت دی، جس میں فطرت کے قوانین کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ 72 یوں اگرچہ چارواک ایک منظم مکتبِ فکر کے طور پر ختم ہو گیا لیکن اس کی روح یعنی حسی تصدیق، تجربی استدلال اور ماورائی قوت پر شکوک، وسیع ہندوستانی فکری دھارے میں جذب ہو کر برقرار رہی، حتیٰ کہ یہ فکر ان نظاموں میں دوبارہ ابھر کر سامنے آئی جو ظاہری طور پر مذہبی روایات سے وابستہ اور اس جیسے بے دین نظریات کے مخالف تھے۔ نیائے(Nyaya) کی سخت گیر علمیات (epistemology) اور سانکھیہ کی غیر خدائی فطرت پسندی ایسی مثالیں ہیں جو کسی نہ کسی سطح پر الحاد کی طرف اشارہ کرتی محسوس ہوتی ہیں، اگرچہ وہ کھلے انکار کی صورت اختیار نہیں کرتیں۔

خلاصۂ یہ ہے کہ ہندوستانی مثال واضح کرتی ہے کہ مشرکانہ نظام کی حد سے بڑھی ہوئی رسومات، طبقاتی جبر جیسے ذات پات کا نظام اور مذہبی اخراجات، اور مذہبی اجارہ داری نے ایک مقامی الحادی ردِّعمل کو جنم دیا۔ قدیم ہندوستان میں صریح الحادی فکر کی موجودگی اس خیال کی تردید کرتی ہے کہ الحاد محض جدید یا مغربی مظہر ہے۔ جب"روایتی بندھن" ڈھیلے پڑنے لگے تو فکری آزادی کی ایک ایسی فضا پیدا ہوئی جس میں انتہائی جرات مند نظریات، حتیٰ کہ دیوتاؤں کے انکار اور اس کے بعد مذہب کے انکار تک کی گنجائش پیدا ہو گئی۔چارواکا کےاس فکری سفر کا آخری پڑاؤ نمایاں کرتا ہے: کثرتِ معبودان سے آغاز، پھر رسومات پر شک اور بالآخر مادّے کے سوا ہر حقیقت کا انکار۔ یہ مثال نہایت واضح طور پر دکھاتی ہے کہ کس طرح مشرکانہ مذاہب خود الحاد کے لیے ذہنی زمین ہموار کرتے ہیں۔

چینی عوامی شرک — کنفیوشیائی عقلانیت (Confucian Rationalism)

ابتدائی چینی مذہب کی بنیاد آباؤ اجداد کی پرستش، ارواح پرستی اور مشرکانہ عقائد پر قائم تھی۔ لوگ "تیان" (Tian: آسمان / اعلیٰ اخلاقی اصول) کو ایک بلند تر قوت کے طور پر مانتے تھے اور بے شمار مقامی دیوتاؤں کے لیے قربانیاں پیش کرتے تھے، جیسے دریا کے دیوتا، پہاڑوں کے دیوتا، اور فوت شدہ بزرگوں کی ارواح وغیرہ۔ اس نظام میں رسوم کو بہت اہمیت دی جاتی تھی، یہاں تک کہ قربانیوں اور عبادات کا مقصد کائناتی توازن اور آبائی روحوں کے ساتھ ہم آہنگی قائم رکھنا سمجھا جاتا تھا۔

ژو (Zhou) خاندان کے دور میں، بالخصوص اسپرنگ اینڈ آٹم (Spring and Autumn) 73اور وارنگ اسٹیٹس (Warring States) کے ادوار میں، 74فکری اور سماجی ہلچل نے چین کے کلاسیکی فلسفیانہ مکاتب کو جنم دیا، جیسے کنفیوشینزم (Confucianism)، تاؤ ازم (Daoism/Taoism)، موہ ازم (Mohism) اور لیگل ازم (Legalism)۔ ان مکاتبِ فکر کی توجہ عبادت اور دیوتاؤں کے بجائے اخلاق، سماجی نظم، سیاسی استحکام اور تکوینی نظام پر مرکوز تھی۔ 75 کنفیوشس (551–479 ق-م) نے اس رجحان کی بنیاد رکھی۔ اس نے رسومات (li) کی حوصلہ افزائی کی، مگر اس کا مقصد خدا کو خوش کرنا نہیں بلکہ انسان کے اندر ادب، ذمہ داری، ضبطِ نفس اور سماجی ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔ 76اس کے برعکس وہ ارواح، غیبی دنیا اور آخرت جیسے موضوعات پر قیاس آرائی سے گریز کرتا تھا۔ 77 انالیکٹس (Analects) میں اس کا قول ہے کہ وہ "عجیب اور روحانی امور"پر گفتگو نہیں کرتا، اور جب اس سے موت کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا کہ پہلے زندگی کو سمجھنا ضروری ہے۔ 78 اگرچہ وہ کبھی کبھار "تیان" (Heaven) کا حوالہ دیتا ہے، مگر اسے ایک ذاتی خدا کے بجائے تقدیر، اخلاقی نظم یا کائناتی قانون کے طور پر پیش کرتا ہے۔ 79اس عملی لاادریت (practical agnosticism) کا نتیجہ یہ نکلا کہ تعلیم یافتہ طبقے کے نزدیک دیوتاؤں کی عبادت کے مقابلے میں اخلاقی کردار، انسانی تعلقات اور سماجی ذمہ داری زیادہ اہم ہو گئے۔ یوں مذہب کا مرکز آسمان سے زمین کی طرف منتقل ہونے لگا، یعنی الوہیت کے بجائے انسان مرکزِ توجہ بن گیا۔

یہ طرزِ فکر رفتہ رفتہ چین کے عالم اور سرکاری طبقے (scholar-official class) کی نظریاتی بنیاد بن گیا۔ اگرچہ ریاستی عہدیدار اپنے فرائض کے تحت آسمان، زمین اور مقامی دیوتاؤں کے لیے رسمی قربانیاں اور عبادات ادا کرتے رہے، لیکن ان کی اصل علمی و فکری توجہ دیوتاؤں کے اساطیری قصّوں کے بجائے کنفیوشیسی کلاسیکی متون کے مطالعے پر مرکوز رہی 80یعنی عبادات ایک انتظامی اور روایتی ذمہ داری تھیں، نہ کہ کسی حقیقی الٰہ کی عبادت۔وقت کے ساتھ ایک دوہرا مذہبی نظام (dual system) وجود میں آیا۔ عام لوگ دیوی دیوتاؤں کی عوامی عبادت کو پوری حرارت کے ساتھ جاری رکھتے تھے، مثلاً سمندری دیوی مازو (Mazu) یا ڈریگن کنگز (Dragon Kings) کی پرستش، جبکہ تعلیم یافتہ اشرافیہ مذہب کو زیادہ تر علامتی، اخلاقی اور سماجی مفہوم میں سمجھتی تھی۔ ان کے نزدیک دیوتا حقیقی مابعد الطبیعی ہستیاں ہونے کے بجائے اخلاقی اقدار، نظمِ کائنات یا سماجی روایت کی علامت بن گئے تھے۔

شاہی دور (Imperial Period) تک پہنچتے پہنچتے چین میں تشکیک کی آوازیں مزید واضح اور مضبوط ہو گئیں۔ پہلی صدی عیسوی کے مفکر وانگ چونگ (Wang Chong) نے اپنی کتاب لُون ہینگ (Lunheng) میں توہمات کو رد کیا۔ اس نے گرج چمک، سورج اور چاند گرہن جیسے مظاہر کو خدائی غضب یا فوق الفطری اشارے قرار دینے کے بجائے قدرتی اسباب سے سمجھایا، اور بھوت پریت کی کہانیوں کو وہم، مبالغہ یا نفسیاتی فریب قرار دیا۔ 81 یوں اس نے مذہبی خوف کو سائنسی اور عقلی توضیح سے بدلنے کی کوشش کی۔ اسی طرح بارہویں صدی کے نیو کنفیوشیسی (Neo-Confucian) مفکر ژو شی (Zhu Xi) نے ارواح اور غیبی اثرات کی تشریح یینگ اور یانگ(Ying and Yang) کی توانائیوں اور کائناتی اصولوں کی باہمی کارفرمائی کے طور پر کی۔ 82 دوسری جانب قانونیت (Legalism) کے مفکر ہان فی (Han Fei، 300ق-م) کا بھی یہ ماننا تھا کہ حکومت کا دار و مدار قوانین کے نفاذ اور سزا و جزا کے مؤثر نظام پر ہونا چاہیے، نہ کہ ارواح یا دیوتاؤں کے بھروسے پر۔ 83 نتیجتاً ایک طویل المدت سیکولر اور عقلی فکری روایت تشکیل پائی۔ اگرچہ عوامی سطح پر مشرکانہ عبادات زندہ رہیں، مگر اہلِ علم اور ادبی طبقے میں تشکیک ایک معمول کی سوچ بن گئی۔ اس طرح ایک مستحکم اور عملی نوعیت کی لاادریت نے جنم لیا، جس میں اخلاق اور عقل کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی اور الوہیت پس منظر میں چلی گئی۔

خلاصہ یہ ہے کہ چین میں مشرکانہ مذہب نے کسی کھلی بغاوت یا تصادم کے بغیر آہستہ آہستہ اخلاقی عقلیت (ethical rationalism) کی صورت اختیار کر لی۔ کنفیوشیسی علما اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ مذہب معاشرے میں اخلاق، نظم اور ضبط پیدا کرنے میں مفید کردار ادا کرتا ہے، مگر اپنی فکری توضیحات میں وہ کائنات اور انسانی زندگی کو غیر الہیاتی (non-theistic) اصولوں کے تحت سمجھاتے تھے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ صدیوں تک چین میں بہت سے لوگ "خاموش ملحد" (closet atheists) یا کم از کم لاپرواہ خدابیزار (apatheists) رہے، یعنی ایسے افراد جن کے نزدیک دیوتاؤں کا سوال عملی طور پر غیر اہم تھا۔

شرک سے الحاد تک منتقلی کے طریقۂ کار

درج بالا تفصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مشرکانہ نظام کی بعض اندرونی کمزوریاں ایسی تھیں جنہوں نے بتدریج تشکیک کو جنم دیا اور بالآخر الحاد کی راہ ہموار کی۔ ان بنیادی محرکات کو چند نمایاں نکات میں یوں سمجھا جا سکتا ہے:

1. کثرتِ معبودان ← عقلی شک

جب متعدد دیوتا ایسے اختیارات رکھتے ہوں جو ایک دوسرے سے ٹکراتے یا باہم متداخل ہوں، تو فطری طور پر عقل سوال اٹھاتی ہے۔ مختلف خداؤں کے باہمی تضادات، متضاد اساطیری کہانیاں، اور غیر مربوط کائناتی تصورات اہلِ فکر کو الجھن میں مبتلا کرتے ہیں۔ نتیجتاً انسان وحدت اور ہم آہنگی کی تلاش میں نکلتا ہے۔ کچھ مفکرین نے اس وحدت کو ایک برتر، واحد اور ماورائی خدا کے تصور میں پایا، جبکہ بعض نے اس کا حل ایک ایسے قدرتی نظام میں تلاش کیا جو بغیر کسی خدا کے یکساں اور منظم قوانین کے تحت خود کار طور پر چلتا ہو۔ یوں خداؤں کی کثرت نے خود اپنے اندر ایسے سوالات پیدا کیے جو یا تو توحید کی طرف لے گئے یا پھر خالص فطری اور غیر خدائی (atheistic / naturalistic) فکر کی بنیاد بنے۔

2. انسان نما دیوتا ← تمسخر اور تنقید

جب خداؤں کو انسانی صفات کے ساتھ پیش کیا گیا تو وہ طنز اور اخلاقی تنقید کے لیے آسان ہدف بن گئے۔ فلاسفہ جیسے زینوفینیز (Xenophanes) نے واضح کیا کہ انسان اپنے ہی اوصاف کو خدا پر منطبق کر دیتا ہے، یعنی خداؤں کی تصویریں دراصل انسانی ذہن کی پیداوار ہیں۔ اسی طرح ڈرامہ نگار ارسطوفانیس (Aristophanes) نے اسٹیج پر دیوتاؤں کی حماقتوں اور کمزوریوں کا مذاق اڑایا۔ اس طنز نے عوام کے دلوں میں دیوتاؤں کا رعب و ہیبت کم کر دی اور بتدریج بے یقینی اور انکار کے لیے ذہنی فضا ہموار کر دی۔

3. عبادت گاہوں اور فرقوں کی کثرت ← اخلاقی اضافت ← تشکیک

جب مختلف علاقوں میں الگ الگ معبودوں، عبادات اور مذہبی قوانین کو رائج دیکھا گیا تو یہ حقیقت نمایاں ہو گئی کہ مذہب اور اخلاقیات ہر جگہ ایک جیسی نہیں بلکہ معاشرتی اور ثقافتی حالات کے مطابق بدلتی رہتی ہیں۔ اسی مشاہدے کی بنیاد پر سوفِسطائی مفکرین اور کریتیاس جیسے اہلِ فکر اس نتیجے تک پہنچے کہ مذہب دراصل ایک سماجی تشکیل ہے جسے لوگوں کو قابو میں رکھنے، نظم و ضبط قائم کرنے اور اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے گھڑا گیا ہے، نہ کہ کوئی حقیقی خدا کی طرف سے بھیجا گیا سچا پیغام۔ یوں اخلاقی اضافت نے تشکیک کو جنم دیا، اور مذہب کی آفاقیت پر اعتماد متزلزل ہونے لگا۔

4. رسومات سے بیزاری ← فطری توضیحات

جب مذہبی رسومات مطلوبہ نتائج پیدا نہ کر سکیں یا پجاری طبقہ بدعنوان، مفاد پرست اور غیر معتبر نظر آنے لگا، تو لوگوں کا مذہبی اعتماد کمزور پڑنے لگا۔ ایسی مایوسی نے ذہنوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ کائنات اور انسانی زندگی کی توجیہ دیوتاؤں کے بجائے فطرت کے قوانین سے کی جائے۔ یوں عقلی تحقیق اور تجرباتی مشاہدہ بتدریج مذہبی تعبیرات کی جگہ لینے لگے۔

خلاصہ یہ ہے کہ شرک نے ماورائی عقیدے کی عمارت میں پہلی دراڑیں ضرور پیدا کیں، مگر یہ دراڑیں کہاں جا کر بھریں یا کس حد تک پھیلیں، یہ ہر زمانے اور ہر تہذیب میں مختلف رہا۔ کہیں اس خلا کو کسی نئی مذہبی فکر نے بھر دیا، جیسے توحید، یا کہیں یہی دراڑیں بڑھتے بڑھتے بے اعتقادی کی خلیج بن گئیں۔ اس لیے مشرکانہ مذہب سے الحاد تک کے سفر کو کوئی آفاقی قانون نہیں کہا جا سکتا، بلکہ یہ ایک تاریخی رجحان ہے جو اکثر نمایاں مثالوں میں سامنے آیا ہے۔تاہم عقلی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ نتیجہ منطقی معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹے خداؤں پر ایمان کا انجام بالآخر خدا بیزاری ہی بنتا ہے، کیونکہ اگر لوگ وہم اور خیالی معبودوں کی عبادت کر رہے ہوں تو بالآخر مایوسی اور بددلی لازم آتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدائی عیسائی اور مسلم علما نے بھی یہی نکتہ بیان کیا تھا کہ مشرکانہ مذاہب اپنی داخلی کمزوریوں کی وجہ سے یا تو کسی سچے دین کے ذریعے بدل دیے جائیں گے یا پھر بے دینی میں ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ اس کے نتیجے میں انسان یا تو توحید کی طرف پلٹتا ہے یا الحاد کی طرف مڑتا ہے کیونکہ وہ حقیقت کے تلاش میں ہوتا ہے۔جامع تاریخی اور فلسفیانہ تناظر میں اسلام اس طویل انسانی تلاش کی تکمیل کی صورت میں سامنے آتا ہے یعنی خالص اور غیر مشروط توحید کی بحالی جو نہ صرف عقلی طور پر مضبوط ہے بلکہ فکری طور پر ہم آہنگ بھی۔ اسلام اُن حقائق کی تصدیق کرتا ہے جن کی طرف قدیم روایات مبہم انداز میں بڑھ رہی تھیں، یعنی اللہ کی وحدانیت، اس کی ماورائیت، اور کائنات کے ساتھ اس کا منظم ربط۔ اس اعتبار سے اسلام کو محض مشرکانہ مذہب کے ردِّعمل کے طور پر نہیں بلکہ اس کے حتمی حل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو انسانی فکر میں بکھری ہوئی تقدیس کی خواہش کو ایک متحد، مربوط اور معقول عقیدے میں ڈھال دیتا ہے اور انسان کے بنیادی اورحتمی سوالات کا واضح جواب فراہم کرتا ہے۔ایک غیر جانب دار تاریخی مبصر بھی اس زاویے میں وزن محسوس کر سکتا ہے کہ وہ تہذیبیں جو مشرکانہ مذہب سے اخلاقی توحید کی طرف بڑھیں، عموماً فکری اور اخلاقی انقلاب سے گزریں اور انہیں ایمان کی زیادہ مضبوط بنیاد حاصل ہوئی۔ اس کے برعکس وہ معاشرے جو کسی نئے روحانی نظام کو قبول نہ کر سکے وہاں پرانے عقائد کے زوال کے بعد سیکولر اور غیر مذہبی فلسفے اس خلا کو پُر کرنے لگے۔ یوں تاریخ ہمیں دکھاتی ہے کہ انسان یا تو سچی توحید (اسلام)کی طرف ارتقا کرتا ہے، یا پھر خدا سے عملی و نظری لاتعلقی کی طرف جس کے نتیجہ میں وہ گمراہ ہو کر الحاد کی راہ کو اختیار کرتا ہے اور بے مقصدبھٹکتا رہتا ہے۔


  • 1  Yehezkel Kaufmann (1951), The Bible and Mythological Polytheism, Journal of Biblical Literature, Society of Biblical Literature, Georgia, USA, Vol. 70, No. 3, Pg. 180.
  • 2  فیٹشزم (Fetishism)سے مراد کسی بے جان چیزمثلاً تعویذ، بت یا کسی اور خاص شے کو غیر معمولی اہمیت یا تقدس دینا اور اس پر حد سےزیادہ بھروسہ رکھنا۔
  • 3  Yehezkel Kaufmann (1951), The Bible and Mythological Polytheism, Journal of Biblical Literature, Society of Biblical Literature, Georgia, USA, Vol. 70, No. 3, Pg. 180.
  • 4  Sarah Iles Johnston (Ed.) (2004), Religion of the Ancient World: A Guide, The Belknap Press of Harvard University Press, Massachusetts, USA, Pg. 17 & 24.
  • 5  Kocku von Stuckrad (2007), The Brill Dictionary of Religion, Brill, Leiden, Netherlands, Vol. 3, Pg. 1466-1470.
  • 6  Walter Burkert (1985), Greek Religion: Archaic and Classical (Translated by: John Raffan), Blackwell Publishing, Oxford, U.K., Pg. 136 & 175.
  • 7  Gavin Flood (1996), An Introduction to Hinduism, Cambridge University Press, Cambridge, U.K., Pg. 45.
  • 8  اینتھرو پومورفزم (Anthropomorphism) ایک ایسا فکری بیانیہ ہے جس میں غیر انسانی ہستیوں، قدرتی قوتوں یا خدائی صفات کو انسانی شکل، جذبات، کمزوریوں یا رویّوں کے ساتھ سمجھا یا اور پیش کیا جاتاہے۔
  • 9  Bill Cooke (2006), Dictionary of Atheism, Skepticism & Humanism, Prometheus Books, New York, USA, Pg. 38.
  • 10  W. K. C. Guthrie (1967), The Greeks and their Gods, Beacon Press, Boston, USA, Pg. 55-56.
  • 11  Irene Polinskaya (2013), A Local History of Greek Polytheism: Gods, People, and the Land of Aigina, 800–400 bce, Brill, Leiden, Netherlands, Pg. 103-104.
  • 12  Encyclopedia Britannica (Online): https://www.britannica.com/topic/Roman-religion/Beliefs-practices-and-institutions: Retrieved: 30-09-2025
  • 13  Jeffery D. Long & Et al. (Ed.) (2022), Hinduism and Tribal Religions, Springer, Dordrecht, The Netherlands, Pg. 996-998.
  • 14  John Dillion (1996), The Middle Platonists: 80 B.C. to A. D. 220, Cornell University Press, New York, USA, Pg. 7.
  • 15  Stanford Encyclopedia of Philosophy (Online): https://plato.stanford.edu/entries/monotheism/: Retrieved: 04-10-2025
  • 16  Walter Burkert (1985), Greek Religion: Archaic and Classical (Translated by John Raffan), Blackwell Publishing, Oxford, U.K., Pg. 121-122.
  • 17  Thomas Galoppin & Et al. (Ed.) (2022), Naming and Mapping the Gods in the Ancient Mediterranean, Walter de Gruyter GmbH, Berlin, Germany, Vol. 1, Pg. 113-114.
  • 18  . A. Long (Ed.) (1999), Cambridge Companion to Early Greek Philosophy, Cambridge University Press, Cambridge, U.K., Pg. 210.
  • 19  Ibid., Pg. 210-211.
  • 20  Vilius Bartninkas (2023), Traditional and Cosmic Gods in Later Plato and the Early Academy, Cambridge University Press, Cambridge, U.K., Pg. 1-3.
  • 21  Internet Encyclopedia of Philosophy (Online), https://iep.utm.edu/pla-laws/: Retrieved: 04-10-2025
  • 22  W. K. C. Guthri (1967), The Greeks and their Gods, Beacon Press, Boston, USA, Pg. 55-56.
  • 23  Edward L. Schoen (1990), Anthropomorphic Concepts of God, Religious Studies, Cambridge University Press, Cambridge, U.K., Vol. 26, Issue: 1, Pg. 123.
  • 24  J.H. Lesher (Ed.) (1992), Xenophanes of Colophon: Fragments A Text and Translation with a Commentary, University of Toronto Press, Toronto, Canada, Pg. 96-97.
  • 25  Michael Martin (2007), The Cambridge Companion to Atheism, Cambridge University Press, Cambridge, U.K., Pg. 14.
  • 26  Stephen Bullivant & Michael Ruse (2021), The Cambridge History of Atheism, Cambridge University Press, Cambridge, U.K., Pg. 108.
  • 27  J.H. Lesher (Ed.) (1992), Xenophanes of Colophon: Fragments A Text and Translation with a Commentary, University of Toronto Press, Toronto, Canada, Pg. 104-105.
  • 28  Plato (2007), Euthyphro (Translated by Cathal Woods and Ryan Pack), Creative Commons, California, USA, Pg. 6.
  • 29  Plato (1881), The Theaetetus (Translated by Benjamin Hall Kennedy), Cambridge University Press, Cambridge, U.K., Pg. XIII.
  • 30  Charles H. Kahn (1997), Greek Religion and Philosophy in the Sisyphus Fragment, Phronesis: A Journal for Ancient Philosophy, Brill, Leiden, Netherlands, Vol. 42, No. 3, Pg. 247.
  • 31  Atin Basuchoudhary, Mario Ferrero & Timothy Lubin (2020), The Political Economy of Polytheism: The Indian Versus the Greco-Roman Religions, Homo Oeconomicus, Springer Nature, Switzerland, Vol. 37, Pg. 22-23.
  • 32  Lucretius (1948), Lucretius on the Nature of Things (Translated by Cyril Bailey), Oxford Clarendon Press, Oxford, U.K., Pg. 29-30.
  • 33  Plato (2018), The Republic (Translated by Tom Griffith), Cambridge University Press, Cambridge, U.K., Pg. 44-46.
  • 34  William Thynne (1833), A Translation of Ovid's Fasti into English Prose, J. D. Scott and Co. Printers, Dublin, Ireland, Pg. 17-18.
  • 35  E. B. England (Ed.) (1922), The Laws of Plato, Manchester University Press, Manchester, U.K., Vol. 2, Pg. 29-30.
  • 36  Plutarch (1999), Moralia (Translated by Frank Cole Babbitt), Harvard University Press, London, U.K., Vol. 5, Pg. 117-119.
  • 37  Jorg Rupke (2016), On Roman Religion: Lived Religion and the Individual in Ancient Rome, Cornell University Press, London, U.K., Pg. 1-2.
  • 38  J. Tate (1929), Plato and Allegorical Interpretation, The Classical Quarterly, Cambridge University Press, Cambridge, U.K., Vol. 23, Issue: 3-4, Pg. 142.
  • 39  A. A. Long (Ed.) (1999), Cambridge Companion to Early Greek Philosophy, Cambridge University Press, Cambridge, U.K., Pg. 15-16.
  • 40  Ibid., Pg. 210.
  • 41  J.H. Lesher (Ed.) (1992), Xenophanes of Colophon: Fragments A Text and Translation with a Commentary, University of Toronto Press, Toronto, Canada, Pg. 104-105.
  • 42  Plutarch (1932), Lives: Pericles and Fabius Maximus; Nicias and Crassus (Translated by Bernadotte Perrin), William Heinemann Ltd., London, U.K., Vol. 3, Pg. 291.
  • 43  Ibid., Pg. 93.
  • 44  Stanford Encyclopedia of Philosophy (Online): https://plato.stanford.edu/entries/democritus/: Retrieved: 08-10-2025
  • 45  Marcus Tullius Cicero (1967), De Natura Deorum Academia (Translated by H. Rackham), Harvard University Press, London, U.K., Pg. 113-115.
  • 46  Michael Martin (2007), The Cambridge Companion to Atheism, Cambridge University Press, Cambridge, U.K., Pg. 18.
  • 47  Charles H. Kahn (1997), Greek Religion and Philosophy in the Sisyphus Fragment, Phroness: A Journal for Ancient Philosophy, Brill, Leiden, Netherlands, Vol. 42, No. 3, Pg. 247.
  • 48  Grant Campbell Pegler (2023), The Social and Political Implications of Expressing Atheistic Thought in Ancient Greece and the Early Roman Empire, and Why These Implications Changed Over Time: A Thesis Presented at Massey University, Auckland, New Zealand, Pg. 72.
  • 49  Lucretius (1948), Lucretius on the Nature of Things (Translated by Cyril Bailey), Oxford Clarendon Press, Oxford, U.K., Pg. 60-61.
  • 50  Ibid., Pg. 10.
  • 51  Stephen Bullivant & Michael Ruse (2013), The Oxford Handbook of Atheism, Oxford University Press, Oxford, U.K., Pg. 105-106.
  • 52  Inger N. I. Kuin (2023), Lucian’s Laughing Gods: Religion, Philosophy, and Popular Culture in the Roman East, University of Michigan Press, Michigan, USA, Pg. 2-3.
  • 53  Sarah Miles (2011), Gods and Heroes in Comic Space. A Stretch of the Imagination?, Dionysus Ex Machina, G.B. Palumbo Editore & C. S.P.A, Palermo, Italy, Vol. 2, Pg. 109-110.
  • 54  Alan H. Sommerstein (Ed.) (1982), The Comedies of Aristophanes: Clouds, Aris & Phillips Ltd., Wiltshire, U.K., Vol. 3, Pg. 47.
  • 55  W. C. Green (Trans.) (1874), The Birds of Aristophanes, J. Hall & Sons, Cambridge, U.K., Pg. 20-21.
  • 56  John Roberts (Ed.) (2007), The Oxford Dictionary of the Classical World, Oxford University Press, Oxford, U.K., Pg. 172.
  • 57  Diogenes the Cynic (2012), Sayings and Anecdotes (Translated by Robin Hard), Oxford University Press, Oxford, U.K., Pg. 89.
  • 58  Ronald Paulson (1967), The Fictions of Satire, The John Hopkins Press, Maryland, USA, Pg. 16-17.
  • 59  Carolyn Dewald & Rosaria Vignolo Munson (Ed.) (2022), Herodotus: Histories, Cambridge University Press, Cambridge, U.K., Book 1, Pg. 244.
  • 60  Nickolas P. Roubekas (2014), What is Euhemerism? A Brief History of Research and Some Persisting Questions, Bulletin for the Study of Religion, Equinox Publishing, Sheffield, U.K., Vol. 43, No. 2, Pg. 30.
  • 61  Charles H. Kahn (1997), Greek Religion and Philosophy in the Sisyphus Fragment, Phroness: A Journal for Ancient Philosophy, Brill, Leiden, Netherlands, Vol. 42, No. 3, Pg. 247.
  • 62  Gavin Flood (1996), An Introduction to Hinduism, Cambridge University Press, Cambridge, U.K., Pg. 45.
  • 63  A. L. Basham (1989), The Origin and Development of Classical Hinduism, Beacon Press, Boston, USA, Pg. 36-37.
  • 64  Johannes Bronkhorst (Ed.) (2007), Greater Magadha: Studies in the Culture of Early India, Brill, Leiden, Netherlands, Pg. 15-16.
  • 65  Ibid., Pg. 151-153.
  • 66  Madhava Acharya (1882), The Sarva-Darsana-Samgraha (Translated by E. B. Cowell & A. E. Gough), Trubner & Co., London, U.K., Pg. 2.
  • 67  Ibid., Pg. 10-11.
  • 68  Ramkrishna Bhattacharya (2011), Studies On The Carvaka/Lokayata, Anthem Press, London, U.K., Pg. 91.
  • 69  F. Max Muller (Ed.) (1977), Dialogues of the Buddha (Translated from the Digha Nikaya by T. W. Rhys Davids), Redwood Burn Limited, Hampshire, U.K., Part 1, Pg. 73-74.
  • 70  Debiprasad Chattopadhyaya (1992), Lokayata: A Study in Ancient Indian Materialism, People’s Publishing House, New Delhi, India, Pg. 12.
  • 71  Johannes Bronkhorst (2016), Who were the Carvakas? Revista Guillermo de Ockham, Universidad de San Buenaventura Cali, Cali, Columbia, Vol. 14, No. 1, Pg. 8.
  • 72  Sarvepalli Radhakrishnan & Charles A. Moore (Ed.) (1967), A Source Book in Indian Philosophy, Princeton University Press, New Jersey, USA, Pg. 358-362.
  • 73  یہ موسموں کے نام نہیں بلکہ تاریخی ادوار کے نام ہیں۔
  • 74  Benjamin I. Schawrtz (1985), The World of Thought in Ancient China, Harvard University Press, Massachusetts, USA, Pg. 56.
  • 75  Ibid., Pg. 174.
  • 76  Arthur Waley (Trans.) (1938), The Analects of Confucious, Random House, New York, USA, Pg. 162.
  • 77  Ibid., Pg. 127.
  • 78  Ibid., Pg. 155.
  • 79  Ibid., Pg. 42-43.
  • 80  Benjamin I. Schawrtz (1985), The World of Thought in Ancient China, Harvard University Press, Massachusetts, USA, Pg. 378.
  • 81  Internet Encyclopedia of Philosophy (Online): https://iep.utm.edu/wangchon/: Retrieved: 14-10-2025
  • 82  Wing-Tsit Chan (1963), A Source Book in Chinese Philosophy, Princeton University Press, New Jersey, USA, Pg. 636-641.
  • 83  Dr. Dinh Thi Kim Lan (2020), Han Fei and The Rule By Law of Legalism, International Journal of Social Science And Human Research, Arizona, USA, Vol. 3, Issue: 10, Pg. 237-238.

Powered by Netsol Online